Skip to main content

Posts

اظہار الحق صاحب کی ایک خوبصورت تحریر ) جسے پڑھتے پڑھتے خود اپنا سانس رکنے لگنا ہے

( اظہار الحق صاحب کی ایک خوبصورت تحریر ) جسے پڑھتے پڑھتے خود اپنا سانس رکنے لگنا ہے ☹️  سرما کی ایک یخ زدہ  ٹھٹھرتی شام تھی جب میری وفات  ہوئی۔ اس دن صبح سے بارش ہو رہی تھی۔ بیوی صبح  ڈاکٹر کے پاس لے کر گئی ۔ڈاکٹر نے دوائیں  تبدیل کیں  مگر خلافِ معمول خاموش رہا۔ مجھ سے کوئی بات کی نہ میری بیوی سے۔ بس خالی خالی آنکھوں سے ہم دونوں کو دیکھتا رہا۔ دوپہر تک حالت اور بگڑ گئی۔ جو بیٹا پاکستان میں تھا وہ ایک تربیتی کورس کے سلسلے میں بیرون ملک تھا۔ چھوٹی بیٹی اور اس کا میاں  دونوں یونیسف کے سروےکے لیے کراچی ڈیوٹی پر تھے۔ لاہور والی بیٹی کو بھی میں نے فون نہ کرنے دیا کہ اس کا میاں بے حد مصروف  ہے اور بچوں کی وجہ سے خود اس کا آنا بھی مشکل ہے۔ رہے  دو لڑکے جو بیرون ملک ہیں‚  انہیں  پریشان کرنے کی کوئی تُک  نہ تھی- یوں  صرف میں اور بیوی ہی گھر پر تھے اور ایک ملازم  جو شام ڈھلے اپنے گھر چلا  جاتا تھا۔ عصر ڈھلنے لگی تو مجھے  محسوس ہوا کہ نقاہت کے مارے بات کرنا مشکل ہورہا ہے۔ میں...

اُمت سو رہی ہے۔

اُمت سو رہی ہے۔ 

پروفیسر فرنود ہاشم کی کہانی

٭ پروفیسر فرنود ہاشم کی کہانی ٭ مجھے یاد آئی مولانا نور محمد کی کہانی سے ------------------------------ ہمارے محلے میں ایک پروفیسر تھے ساری زندگی یونیورسٹی وکالج میں گزری  ایک شاگردہ سے کورٹ میرج کی ( کہا کرتے تھے کہ وقت پر پٹا لی تھی ) ایک ہی یونیورسٹی میں آخری عمر گزاری  میں جب مدرسہ میں پڑھ رہا تھا تو پروفیسر صاحب ارذل عمر میں تھے جب دیکھنے سننے کے قابل نہیں رہے تو کالج سے ریٹائر ہوگئے سرکاری مکان بھی واپس لینے میں سرکار نے دیر نہیں لگائی  وہ میرے محلے ہی میں آگئے جہاں انکے بچے ان سے الگ رہتے تھے اور انکے بھتیجے جوائینٹ فیملی میں رہتے تھے آبائی گھر میں فقہاء کے نام سے بہت چڑتے تھے لیکن جب کبھی فقہاء کی دوررسی قانون کو انکے سامنے نام لئے بنا بیان کیا جاتا تو وہ بہت خوش ہوتے اور کہتے کہ یہ ہے انسانی شعور کی انتہاء لیکن جب بتایا جاتا کہ یہ امام سرخسی کا قول ہے تو بہت جز بز ہوتے اور کہتے کہ انکو کیا پتہ دین کی سمجھ تو صرف غامدی صاحب کو آئی ہے 1400 سالوں میں بہرحال کل میرا ایک فوتگی پر جانے کا اتفاق ہوا … اور مجھے پروفیسر صاحب بہت یاد آئے …. پروفیسر صاحب  شدید تر...

وقت کی رفتار. یادگار تحریر

میرے دادا جان کی یادگار تحریر میرے مرحوم چچا جان ظہیر منظر (اللہ ان کی روح کو سکون دے آمین) کی پیدائش کے موقع پر میرے محترم دادا جان خداداد خان صاحب کے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے ان کے قلم کے الفاظ۔ 

شوگر کے مریضوں کے لیے۔ تین دن میں شوگر ختم انسولین سے نجات -

بھنڈی کا پانی تین دن میں شوگر ختم انسولین سے نجات. تین سے پانچ دن میں ذیابیطس سے فوری نجات کیلئے ایک مجرب نسخہ ہے تین عدد بھنڈیاں لیکر اُن کےدونوں سرے کاٹ دیں، اور ہر بھنڈی کو چھری سے ایک ایک چیرا لگا دیں تاکہ اُس کے اندر جو لیس ہوتی ہے وہ باہر نکلنی شروع ہوجائے۔ اب بھنڈیوں کوساری رات پانی کے ایک گلاس میں بھگو کر پڑا رہنے دیں۔صبح ناشتہ کرنے کے ایک گھنٹہ بعد بھنڈیاں گلاس سے نکال دیں اور پانی ہلائے بغیر پی لیں۔ بس اتنا سا کام ہے اس کے ایک گھنٹے بعد اپنی شوگر چیک کریں۔ جن کی 300 سے اُوپر شوگر رہتی ہے وہ اس پانی کو تین دن پئیں تو بتاتے ہیں کہ شوگر 150 سے بھی کم ہوجاتی ہے۔ اللہ نے بھنڈی کے پانی میں انسولین کےمعجزاتی خواص رکھے ہیں۔اس نسخہ کو معمولی سمجھ کر نظر انداز مت کیجئے گا بہت لوگوں کو شفاء ملی اور برائے کرم دوسروں کے لئے صدقہ جاریہ کی نیت سے شئیر کریں شکریہ

Molvi

Masajid me kam krny valy tmam hazraat chahy hm uny molvi bolen ya mulla ya jo kuch b islam k liyay un ki khidmaat kabil e qdr hen. Kon he jo aj k iss dor me b 10, 15 hazaar ly k hamari baten b sunay? Jo taleem hamary mulk k bry bry scools or universities b nhi dy pati vo hamary muhally k aam sy molana sy ly kr b ham un sy razi nhi hoty. Agr hamary hakumti idary aj sy 5 10 sal pehly sy hee Auqaaf or masaajid ko systematized krty to aj hamey apny deen k tarjumaao k bary me esi baten na sunna prti. Yeh bat ap sb ko b mana pry gee k islaam dushman tmam taqten aj yeh bat sabit krny me kamyab ho gy hen k muslmaan dehshatgrd hen. Jab k asli bat yeh he k islam ko or muslmano ko terrorism k name py dbaya ja rha h. Ek esa gunah jo h hm ny kia b nhi. Agr hamari msaajid or madrissy auqaaf k nichy kam kr rhy hoty to aj hamary deeni bhayon pr ungli koi na uthata. Munasib system na hony ka fida dusron ny uthaya or islaam ko badnam krny me kuch hd tk kamyab ho gy. Hamari pichli hakumton ki na ehli ka...

‏آؤ خواب دیکھیں

‏آؤ خواب دیکھیں ۔ بند آنکھوں کے خوابوں کو علم وفہم اور کھلی آنکھوںں کے خوابوں کو محنت کے سِوا کبھی بھی تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔