Skip to main content

Posts

ﮐﯿﺎ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ؟

ﮐﯿﺎ ﻟﮍﮐﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ؟ ﻭﮦ ﻭﺍﻟﺪﯾﻦ ﮐﻮ ﺩﮬﻮﮐﮧ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺣﮑﻢ ﮨﮯ؟ ﮈﯾﭧ ﭘﺮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﺳﺰﺍ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ ﺍﺱ ﺳﮯ ﺑﭽﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﭽﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮨﮯ؟ ﺟﻮﺍﺏ : ﺍﺳﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﺑﻐﯿﺮ ﻧﮑﺎﺡ ﮐﺌﮯ ﻟﮍﮐﮯ ﺍﻭﺭ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﻭﺳﺘﯽ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﺼﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﺍﮔﺮ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﻏﯿﺮ ﻣﺤﺮﻡ ﻣﺮﺩﻭﮞ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﭘﮍ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﺘﮩﺎﺋﯽ ﻣﺤﺘﺎﻁ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺍﭘﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ ﮨﮯ۔ ﺍﺭﺷﺎﺩ ﺑﺎﺭﯼ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮨﮯ : ﻳٰـﻨِﺴَﺂﺀَ ﺍﻟﻨَّﺒِﯽِّ ﻟَﺴْﺘُﻦَّ ﮐَﺎَﺣَﺪٍ ﻣِّﻦَ ﺍﻟﻨِّﺴَﺂﺀِ ﺍِﻥِ ﺍﺗَّﻘَﻴْﺘُﻦَّ ﻓَـﻠَﺎ ﺗَﺨْﻀَﻌْﻦَ ﺑِﺎﻟْﻘَﻮْﻝِ ﻓَﻴَﻄْﻤَﻊَ ﺍﻟَّﺬِﻱْ ﻓِﻲْ ﻗَﻠْﺒِﻪِ ﻣَﺮَﺽٌ ﻭَّﻗُﻠْﻦَ ﻗَﻮْﻟًﺎ ﻣَّﻌْﺮُﻭْﻓًﺎo ﺍﮮ ﺍﺯﻭﺍﺝِ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ! ﺗﻢ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﺍﯾﮏ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ ﻣِﺜﻞ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮ، ﺍﮔﺮ ﺗﻢ ﭘﺮﮨﯿﺰﮔﺎﺭ ﺭﮨﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ‏( ﻣَﺮﺩﻭﮞ ﺳﮯ ﺣﺴﺐِ ﺿﺮﻭﺭﺕ ‏) ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﺮﻡ ﻟﮩﺠﮧ ﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ‏( ﻧِﻔﺎﻕ ﮐﯽ ‏) ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﮨﮯ ‏( ﮐﮩﯿﮟ ‏) ﻭﮦ ﻻﻟﭻ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﮯ ﺍﻭﺭ ‏( ﮨﻤﯿﺸﮧ ‏) ﺷﮏ ﺍﻭﺭ ﻟﭽﮏ ﺳﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﻧﺎ۔ ﺍﻻﺣﺰﺍﺏ، :33 32 ﻣﺬﮐﻮﺭﮦ ﺑﺎﻻ ﺁﯾﺖ ﻣﺒﺎﺭﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﺍﺯﻭﺍﺝ ﻣﻄﮩﺮﺍﺕ ﮐﻮ ﻣﺨﺎﻃﺐ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮏ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻮﺭﺗﻮﮞ ﮐﻮ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺩﯼ ﮨﮯ ﮐﮧ...

اللہ تعالیٰ کی قرآنِ پاک میں انسانیت کو 100 کے قریب براہِ راست ہدایات

اللہ تعالیٰ کی قرآنِ پاک میں انسانیت کو 100 کے قریب براہِ راست ہدایات  1. بدزبانی سے بچو (3:159)  2. غصے کو پی جاؤ (3:134)  3. دوسروں کے ساتھ بھلائی کرو (4:36)  4.  تکبر سے بچو (7:13)  5. دوسروں کی غلطیاں معاف کرو (7:199)  6. لوگوں سے نرمی سے بات کرو (20:44)  7. اپنی آواز پست رکھو (31:19)  8. دوسروں کا مذاق نہ اڑاؤ (49:11)  9. والدین کا احترام اور ان کی فرمانبراداری  کرو (17:23)  10. والدین کی بے ادبی سے بچو اور اُن کے سامنے اُف تک نہ کہو (17:23)  11. اجازت کے بغیر کسی کی خلوت گاہ (پرائیویٹ کمرہ) میں داخل نہ ہو (24:58)  12. آپس میں قرض کے معاملات تحریر کر لیا کرو (2:282)  13. کسی کی اندھی تقلید مت کرو (2:170)  14. اگر کوئی تنگی میں ہے تو اسے قرضہ اتارنے میں مہلت دو (2:280)  15. سود مت کھاؤ (2:275)  16. رشوت مت اختیار  کرو (2:188)  17. وعدوں کو پورا کرو (2:177)  18. آپس میں اعتماد قائم رکھو (2:283)  19. سچ اور جھوٹ کو آپس میں خلط ملط نہ ک...

ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﻨﺪﮦ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺴﺨﮧ

جناب اشفاق احمد نے فرمایا: ﻣﯿﮟ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﮑﻝ ﮐﺮ رﻭﮈ ﭘﺮ ﭼﻼ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ کہﺍﯾﮏ ﺑﺎبا ﻧﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﭨﮩﻨﯽ ﻟﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺵ ﭘﺮ ﺭﮔﮍ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ: ﻟﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﻨﺪﮦ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺴﺨﮧ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ- ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮧ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﺩﻭ، ﺟﻮ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺷﮑﺮ ﮐﺮﻭ ‘ ﺟﻮ ﭼﮭﻦ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ، ﺟﻮ ﻣﺎﻧﮓ ﻟﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﻭ، ﺟﻮ  ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎؤ- ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﺑﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﻭﺍﭘﺲ ﺟﺎؤ ﮔﮯ، ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺟﻤﻊ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ، ﮨﺠﻮﻡ ﺳﮯ ﭘﺮﮨﯿﺰ ﮐﺮﻭ، ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺑﻨﺎﺋﻮ، ﺟﺴﮯ ﺧﺪﺍ ﮈﮬﯿﻞ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ  ﺍﺱ ﮐﺎ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﺣﺘﺴﺎﺏ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ، ﺑﻼ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺳﭻ ﻓﺴﺎﺩ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﮐﻮﺋﯽ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺗﻮ ﺳﭻ ﺑﻮﻟﻮ، ﻧﮧ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺗﻮ ﭼﭗ ﺭﮨﻮ، ﻟﻮﮒ ﻟﺬﺕ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﺬﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺑﺮﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ، ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻥ ﮐﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﯿﺮ ﭘﺮ ﻧﮑﻞ ﺟﺎؤ، ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﮑﻮﻥ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﺑﮭﯽ، ﺩﯾﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺷﯽ ﮨﮯ،  ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻏﻢ، ﺩﻭﻟﺖ ﮐﻮ ﺭﻭﮐﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺭﮎ ﺟﺎؤ ﮔﮯ، ﭼﻮﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﭼﻮﺭ ﮨﻮ ﺟﺎؤ ﮔﮯ، ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺍﺿﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺟﮓ ﺭﺍﺿﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ، ﻭﮦ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺍﮌ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ، ﺳﺎﺩﮬﻮ...

مجھے اپنے شوہر کی دوسری شادی پر اعتراض کیوں

مجھے اپنے شوہر کی دوسری شادی پر اعتراض کیوں !                    میں جب دیکھتی ہوں کہ کتنی کنواری لڑکیاں اپنی عزت اور عصمت کے معاملات میں مشکلات اور مصائب کا شکار ہیں تو میرا دل دکھ سے بھر جاتا ہے۔ میں جب دیکھتی ہوں کہ پہلی شادی میں بھی لڑکیاں کتنے جھگڑوں اور لڑائیوں کا شکار ہیں اور مجھے الحمداللہ سکون ہے تو مجھے شوہر کی دوسری شادی کا ڈر ختم  ہو جاتا ہے۔ کہ اگر مسائل قسمت میں لکھے ہوں تو اکلوتی بیویوں کو بھی بن سکتے ہیں۔ ایسی خواتین بھی ہیں جو ونی، سوارا، قرآن سے شادی جیسے مظالم کا شکار ہیں۔ جو جائداد کے لئے سگے بھائیوں کے ہاتھوں پس رہی ہیں۔ ایسی بے شمار عورتیں ہیں جو والدین کی انا کی بھینٹ چڑھ گئی ہیں۔ تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ الحمداللہ میں بہترین ہاتھوں میں ہوں اور مجھے کسی قسم کا عدم تحفظ نہیں۔ مجھے کوئی ڈر نہیں کہ کوئی دوسری عورت میرا حق چھین سکے۔ کوئی اور خاتون میری جگہ لے سکے۔ میرا ایمان ہے دوسری عورت کو اپنے نصیب کا ملے گا اور مجھے اپنے نصیب کا۔ میں جب دیکھتی ہوں کہ لڑکیاں ایک ایک کمرے کے مکان میں گزارا کر رہی...

ﮐﯿﺎ ﯾﮧﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ؟؟؟

ﺍﯾﮏ ﺳﮩﯿﻠﯽ ﻧﮯ ﺩﻭﺳﺮﯼﺳﮩﯿﻠﯽ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﺑﭽﮧ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺧﻮﺷﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮﺷﻮﮨﺮ ﻧﮯ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﺗﺤﻔﮧ ﺩﯾﺎ ؟؟؟ ﺳﮩﯿﻠﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽﻧﮩﯿﮟ!!!! ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﯾﮧﺍﭼﮭﯽ ﺑﺎﺕ ﮨﮯ؟؟؟ ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻧﻈﺮ ﻣﯿﮟﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﮐﻮﺋﯽ ﻗﯿﻤﺖ ﻧﮩﯿﮟ؟؟؟ ﻟﻔﻈﻮﮞ ﮐﺎ ﯾﮧ ﺯﮨﺮﯾﻼ ﺑﻢ ﮔﺮﺍﮐﺮ ﻭﮦ ﺳﮩﯿﻠﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺳﮩﯿﻠﯽ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻓﮑﺮ ﻣﯿﮟ ﻏﻠﻄﺎﮞ ﻭ ﭘﯿﭽﺎﮞ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﭼﻠﺘﯽ ﺑﻨﯽ!!!! ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮﺑﻌﺪ ﻇﮩﺮ ﮐﮯ ﻭﻗﺖ ﺍﺱ ﮐﺎﺷﻮﮨﺮ ﮔﮭﺮ ﺁﯾﺎﺍﻭﺭ ﺑﯿﻮﯼﮐﺎ ﻣﻨﮧ ﻟﭩﮑﺎ ﮨﻮﺍﭘﺎﯾﺎ، ﭘﮭﺮﺩﻭﻧﻮﮞﮐﺎ ﺟﮭﮕﮍﺍ ﮨﻮﺍﺍﯾﮏ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﻟﻌﻨﺖ ﺑﮭﯿﺠﯽ ﻣﺎﺭﭘﯿﭧ ﮨﻮﺋﯽﺷﻮﮨﺮ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﻃﻼﻕ ﺩﮮﺩﯼ!!!! ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﭘﺮﺍﺑﻠﻢ ﮐﯽ ﺷﺮﻭﻋﺎﺕ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﮨﻮﺋﯽ؟؟؟ ﺍﺱ ﻓﻀﻮﻝ ﺟﻤﻠﮯ ﺳﮯﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﯿﺎﺩﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﺁﺋﯽ ﺳﮩﯿﻠﯽ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﺗﮭﺎ!!!! اسی طرح زید نے حامد سے پوچھا!! تم کہاں کام کرتے ہو؟؟ حامد : فلاں دکان میں!! ماہانہ کتنی تنخواہ دیتاہے؟؟ حامد:18000 روپے!! زید: 18000 روپے بس،تمہاری زندگی کیسے کٹتی ہے اتنے پیسوں میں؟؟ حامد ۔گہری سانس کھینچتے ہوئے ۔ بس یار کیا بتاوں!! میٹنگ ختم ہوئی!! کچھ دنوں کے بعد حامد اب اپنے کام سے بیزار ہوگیا ، اور تنخواہ بڑھانے کی ڈیمانڈ کردی، جسے مالک نے رد کردیا، نوجوان نے جاب چھ...

اللہ رازق

پنجاب کے شہر گوجرانوالہ میں ایک حکیم صاحب ہوا کرتے تھے، جن کا مطب ایک پرانی سی عمارت میں ہوتا تھا۔ حکیم صاحب روزانہ صبح مطب جانے سے قبل بیوی کو کہتے کہ جو کچھ آج کے دن کے لیے تم کو درکار ہے ایک چٹ پر لکھ کر دے دو۔ بیوی لکھ کر دے دیتی۔ آپ دکان پر آ کر سب سے پہلے وہ چٹ کھولتے۔ بیوی نے جو چیزیں لکھی ہوتیں۔ اُن کے سامنے اُن چیزوں کی قیمت درج کرتے، پھر اُن کا ٹوٹل کرتے۔ پھر اللہ سے دعا کرتے کہ یااللہ! میں صرف تیرے ہی حکم کی تعمیل میں تیری عبادت چھوڑ کر یہاں دنیا داری کے چکروں میں آ بیٹھا ہوں۔ جوں ہی تو میری آج کی مطلوبہ رقم کا بندوبست کر دے گا۔ میں اُسی وقت یہاں سے اُٹھ جائوں گا اور پھر یہی ہوتا۔ کبھی صبح کے ساڑھے نو، کبھی دس بجے حکیم صاحب مریضوں سے فارغ ہو کر واپس اپنے گائوں چلے جاتے۔ ایک دن حکیم صاحب نے دکان کھولی۔ رقم کا حساب لگانے کے لیے چِٹ کھولی تو وہ چِٹ کو دیکھتے کے دیکھتے ہی رہ گئے۔ ایک مرتبہ تو ان کا دماغ گھوم گیا۔ اُن کو اپنی آنکھوں کے سامنے تارے چمکتے ہوئے نظر آ رہے تھے لیکن جلد ہی انھوں نے اپنے اعصاب پر قابو پا لیا۔ آٹے دال وغیرہ کے بعد بیگم نے لکھا تھا، بیٹی کے جہیز کا ساما...

محبت کے سجدے

*محبت کے سجدے* وہ دھوپوں میں تپتی زمینوں پہ سجدے  سفر میں وہ گھوڑوں کی زینوں  پہ سجدے چٹانوں کی اونچی جبینوں پہ سجدے وہ صحرا بیاباں کے سینوں پہ سجدے علالت میں سجدے مصیبت میں سجدے وہ فاقوں میں حاجت میں غربت میں سجدے وہ جنگ و جدل میں حراست میں سجدے لگا تیر زخموں کی حالت میں سجدے وہ غاروں کی وحشت میں پُر نور سجدے وہ خنجر کے ساۓ میں مسرور سجدے وہ راتوں میں خلوت سے مامور سجدے وہ لمبی رکعتوں سے مسحور سجدے وہ سجدے محافظ مدد گار سجدے غموں کے مقابل عطردار سجدے نجات اور بخشش کے سالار سجدے جھکا سر تو بنتے تھے تلوار سجدے وہ سجدوں کے شوقین غازی کہاں ہیں ؟ زمیں پوچھتی ہے نمازی کہاں ہیں ؟ ہمارے بجھے دل سے بیزار سجدے خیالوں  میں الجھے ہوے چار سجدے مصلے ہیں ریشم کے بیمار سجدے چمکتی دیواروں میں لاچار  سجدے ریا کار سجدے ہیں نادار سجدے ہیں،  بے نور، بے ذوق مردار سجدے سروں کے ستم سے ہیں سنگسار سجدے دلوں کی نحوست سے مسمار سجدے...